بھٹکل:3/اپریل(ایس اؤنیوز) ملک کے مسلمان مختلف پروگراموں سمیت سوشیل میڈیا میں بارہا اس بات کو دہرارہے تھے کہ میڈیا مذہب کے نام پر فرقہ پرستی کی تشہیر میں مصروف ہے، میڈیا فرقہ پرست ہوکر سماج کو دھوکہ دے رہاہے، اور آج حالات اس قدر سنگین رُخ اختیارکرگئے ہیں کہ مسلمانوں کا میڈیا کے میدان میں آگے آنا ضروری ہوگیا ہے، اسی طرح کے خیالات کا اظہار بھٹکل میں منعقدہ سدبھائونا منچ کی افتتاحی تقریب میں مقررین نے کیا جس میں کاروار سے شائع ہونے والے معروف روزنامہ کرائولی منجائو کے مینجنگ ایڈیٹر گنگادھر ہیرے گُتّی بھی شامل تھے۔
مورخہ 2/ اپریل کی شام بھٹکل کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ سدبھائونا منچ کی افتتاحی تقریب اور خیر سگالی پروگرام میں پروگرام کے نائب کنوینر اکبر علی اُڈپی نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے بزرگوں نے ملک کی آزادی کے لئے کئی قربانیاں پیش کیں ہیں ، اور اس ملک میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے ایک دستور مرتب کرکے رخصت ہوئے ہیں۔اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس ملک کو جس حالت میں وہ چھوڑگئے تھے ہم اسی حالت میں اس ملک کو ہماری نئی نسل تک پہنچائیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں اب دھرم کے نام پر ادھرم کی سیاست ہورہی ہے، اقتدار کے لئے دھرم کو ادھرم کے طورپر استعمال کیا جارہاہے ، ملک میں ایک چھوٹا گروہ ہم عوام کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا کرنا چاہتا ہے جب کہ اکثریت امن کی خواہاں ہے، تشویش اس بات کی ہے کہ امن کے خواہاں اکثریتی عوام اپنی جگہ پر خاموش ہیں ، ملک میں تمام مذاہب کے درمیان بھائی چارگی اور محبت کو بڑھاوا دینا ہے اور نفرت پھیلانے والوں کو اُن کے مقاصد میں ناکام بنانا ہے تو پھرایسے تمام لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاموشی کو توڑکر احتجاجی راہ اپنائیں۔ انہوں نے کہا عوام میں بیداری پیداکرنے اور امن پسند عوام کو لے کر ملکی سطح سے محلہ وار سطح تک آپسی خیر سگالی پیدا کرنے کے لئے سدبھاؤنا منچ کے نام سے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
سدبھاؤنا منچ کے قیام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے موصوف نے کہا کہ یہ منچ نہ کسی کی مخالفت میں اور نہ کسی کے حق میں اور نہ حالات کے دباؤ یا خوف کی وجہ سےاور نہ ہی کسی سیاسی اغراض کو لے کر قائم نہیں کیا گیا ہے بلکہ ملک کی سالمیت ، یک جہتی اور ترقی کی خاطر اس کی بنیاد ڈالی گئی ہے، ملک میں امن و سکون قائم رکھنا ، آپسی تعلقات اور عوامی رابطے کو مضبوط کرنا وقت کا تقاضا ہے، ہمارا مقصد کسی مہم کو منا کر سوجانا نہیں ہے ، بلکہ اس پروگرام کے ذریعے میدان میں کام کرنے کے لئے آپ تمام کو دعوت دینے کے لئے منعقد کیا گیا ہے، کوئی بھی انسان جب پیدا ہوتاہے تو صرف سانس لے کر پیدا ہوتاہے ، اس وقت اس کا کوئی نام نہیں ہوتا ، اُس کی کوئی ذات نہیں ہوتی ، اور جب وہ مرتاہے تو اُس کی سانس بھی نہیں ہوتی۔ پیدا ہونے اور مرنے کے لئے دوسروں کا سہارا لازمی ہے جب حقیقت یہ ہے تو پھر آپس میں نفرت و دشمنی کیسی ، اس نفرت اور دوریوں کو ختم کرکے آگے بڑھنا ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت سدبھائونا منچ منعقد کیا جارہا ہے۔
پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر کاروار سے تشریف فرما مشہور و معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاؤ کے مینجنگ ایڈیٹر اور روشن خیال مفکر گنگادھر ہیرے گتی نے کہاکہ جدید دور میں بھی ذات پات والے نظام کو باقی رکھتے ہوئے مظلوم طبقات اور دلتوں کااستحصال کیا جارہاہے، ان کے مطابق جو انسان محنتی و جفاکش ہوتا ہے وہ کبھی فرقہ پرست نہیں ہوتا۔ انہوں نے حالیہ ٹی وی چینلس اور اخبارات کی خبروں اور تبصروں کے متعلق رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ظلم ، بے رحمی ، سفاکی کو مبالغہ آمیز بنا کر عوام کو اسی میں مگن رہنے پر مجبور کررہاہے، میڈیا فرقہ پرست ہوکر سماج کو دھوکہ دے رہاہے، ہم آج خطرے کی سطح کو پہنچ گئے ہیں، ان حالات میں ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر اپنا فرض ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہر میدان میں تمام ذات پات اور دھر م کے لوگوں کو شامل ہونا ہوگا، لوگوں کو ایک دوسرے کے اندر گھل مل کر رہنا ہوگا ، آگے بتایا کہ انسانیت سے بڑھ کر رسم و رواج کی کوئی قیمت نہیں ہے ، انہوں نے اس بات کی خواہش کا اظہار کیا کہ بھٹکل میں نئے طورپر تشکیل شدہ سدبھاؤنا منچ اپنی مخلصانہ خدمت کے ذریعے اپنی بنیاد قائم رکھنے میں کامیاب ہو۔
شہر کے مشہور وکیل وکٹر گومس نے کہاکہ کسی بھی دھرم کے انسان کی ذہنیت پر حملہ کیا جاتاہےتو وہ سفاکانہ ہوتاہے، مندر، مسجد اور چرچ کی چار دیواروں سے باہر آکر روحانی تعلیم کو سمجھیں تو صحیح راستہ نظر آئے گا۔ بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر منجوناتھ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ زبان، دھرم، ذات پات کی بنیاد پراگر کوئی بد امنی اور ہنگامہ برپاکرنے کی کوشش کرتا ہے تو اُسے برداشت نہیں کیاجائے گا۔ تمام مقررین نے بھٹکل میں سدبھاؤنا منچ کے قیام کے سلسلے میں جدوجہد کرنے والے تمام لوگوں کا خصوصاً مرکزی کردار ادا کرنے والے محمد رضامانوی کی ستائش کرتے ہوئے ایسی کوششوں کو ہمیشہ جاری رکھنے کی تمنا ظاہر کی۔ جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے امیر مقامی مجاہد مصطفیٰ ڈا ئس پر موجود تھے۔
ثناء اللہ اسدی کی تلاوتِ قرآن سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ فارقلیط مانوی نے بہترین اور مترنم آواز میں سدبھاؤنا گیت پیش کیا ۔محمد رضامانوی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے استقبال کیا جبکہ سدبھائونا منچ کے رکن اور کنڑا ساہتیہ پریشد کے صدر گنگادھر نائک نے شکریہ اداکیا۔ کنڑا شاعر شری دھر شیٹھ نے جلسہ کی بہترین اندازمیں نظامت کی۔ پروگرام کے اختتام پر آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن کی طرف سے منعقد کئے گئے مضمون نویسی مقابلے کے انعامات کی تقسیم کی گئی ۔ منچ کی جانب سے ہرایک مہمان کومیمونٹو دیا گیا ۔ جلسہ میں شہر کی معزز شخصیات ، ڈاکٹرس ، پروفیسر ، انجنئیرس سمیت مرد و خواتین کی کثیرتعداد شریک تھی۔ آخر میں طعام کا انتظام تھا۔